*بھیک مانگنے والوں سے متعلق اھم تفصیل*
جہاں تک بھکاریوں کا تعلق ہے وہ دنیا کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں۔ ہم نے بھکاری افغانستان میں بھی دیکھے ہیں جو دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور برطانیہ میں بھی انہیں بھیک مانگتے دیکھا ہے جسے ترقی یافتہ اور ویلفیئر اسٹیٹ کہا جاتا ہے اور جس ملک کو اپنے شہریوں کو زندگی کی ضروری سہولتیں ریاستی سطح پر مہیا کرنے کا امتیاز حاصل ہے۔ لندن کے انڈر گراؤنڈ ریلوے اسٹیشنوں پر آپ کو متعدد جگہ ایسے بھکاری نظر آئیں گے جو راستے میں کپڑا بچھائے بیٹھے ہیں، گٹار بجا رہے ہیں یا گا رہے ہیں اور گزرنے والے اس کے کپڑے یا کشکول نما برتن میں سکے پھینکتے چلے جاتے ہیں۔ انڈر گراؤنڈ ریل میں ہم نے ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے بھی دیکھے ہیں۔
بھیک مانگنا بسا اوقات مجبوری کے باعث ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات اس کا باعث کاہلی اور شوق ہوتا ہے کہ ایک انسان محنت مزدوری اور کام کاج سے جی چراتے ہوئے مشقت کی بجائے ہاتھ پھیلانے کی ذلت برداشت کر لیتا ہے اور اس میں عافیت محسوس کرتا ہے کہ اسے کوئی کام نہ کرنا پڑے اور مانگ تانگ کر زندگی کے اخراجات پورے ہوتے رہیں۔ ایسی بھیک مانگنے سے اسلام نے منع کیا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ہے جو محنت مزدوری کی طاقت اور مواقع مہیا ہونے کے باوجود کام کاج سے گریز کرتا ہے اور بھیک مانگنے کو مشغلہ کے طور پر اختیار کرتا ہے۔ البتہ معذوری اور مجبوری کی وجہ سے بوقت ضرورت بھیک مانگنے کی اجازت بھی دی گئی ہے اور روایات میں آتا ہے کہ جہاں آنحضرتؐ بلاوجہ بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے تھے اور بسا اوقات انہیں ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے وہاں کوئی ضرورتمند سوالی آپؐ کے دروازے سے خالی نہیں جایا کرتا تھا۔
فقہ حنفی کے معروف امام حضرت امام محمدؒ نے ’’کتاب الکسب‘‘ میں بھیک مانگنے کی شرعی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے اس کے مختلف درجات بیان فرمائے ہیں کہ بسا اوقات بھیک مانگنا فرض ہو جاتا ہے جب جان کو خطرہ ہو اور کسی اور ذریعے سے جان بچانے کے لیے خوراک ملنے کی بظاہر کوئی صورت نہ ہو تو ضرورتمند پر فرض ہے کہ وہ بھیک مانگ کر اتنی خوراک حاصل کر لے جس سے جان بچ جائے۔ اور ایک درجہ حرام ہونے کا ہے کہ ضرورت نہیں ہے اور متبادل ذرائع موجود ہیں مگر ایک شخص محض شوق پورا کرنے کے لیے یا لالچ کے لیے بھی مانگتا ہے، ایسی بھیک مانگنا حرام ہے اور بھیک مانگنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ ان دونوں درجوں کے درمیان مباح اور مکروہ کے درجات بھی ہیں۔
اسلام نے معاشرے سے بھیک کے خاتمہ کے لیے بیت المال کو شہریوں کی ضروریات کا کفیل قرار دیا ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’السلطان ولی من لا ولی لہ‘‘ جس کا کوئی ولی نہیں سلطان (امیر المؤمنین) اس کا ولی ہے۔ اسی اصول پر امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے ویلفیئر اسٹیٹ کے اس آئیڈیل سسٹم کی بنیاد رکھی تھی جس میں معاشرہ کے نادار، معذور، بے روزگار، بے سہارا اور ضرورتمند افراد کی فہرستیں مرتب کر کے بیت المال کی طرف سے ان کے وظائف مقرر فرمائے تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جو شخص خود اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکتا اور کوئی شخص بھی اس کے اخراجات کی کفالت کا شرعاً یا عرفاً ذمہ دار نہیں ہے تو اس کے اخراجات کی کفالت کی ذمہ داری ریاست پر ہے اور اسے بیت المال سے اتنا وظیفہ دیا جائے گا جس سے وہ اپنے روز مرہ کے ضروری اخراجات پورے کر سکے۔
حضرت عمرؓ کے بعض سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک بوڑھے یہودی کو بازار میں لوگوں سے بھیک مانگتے دیکھا تو یہ کہہ کر تعجب کا اظہار کیا کہ جب ہم بیت المال سے ہر ضرورتمند کو اس کی ضرورت کے مطابق وظیفہ دیتے ہیں تو یہ بوڑھا لوگوں سے کیوں مانگ رہا ہے؟ گویا حضرت عمرؓ کے نزدیک ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور یہ تھا کہ ریاست اپنے شہریوں کی ضروریات کی اس درجہ میں کفالت کی ذمہ داری اٹھائے کہ کسی شخص کو دوسرے شخص کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
ہمارے معاشرے میں بھیک مانگنے والے تین سطح کے لوگ ہیں:
بہت سے افراد ضرورت اور مجبوری کے تحت بھیک مانگتے ہیں اور ان کی پوزیشن فی الواقع ایسی ہوتی ہے کہ جسمانی معذوری یا روزگار کے مواقع میسر نہ آنے کی وجہ سے ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ وہ بھیک مانگ کر اور ہاتھ پھیلا کر زندگی کا رشتہ قائم رکھیں۔
دوسری سطح کے لوگ وہ ہیں جو عادت، شوق، یا کام چوری کی وجہ سے بھیک مانگنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں میں مبینہ طور پر بہت سے افراد اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کی تجوریوں اور بیک بیلنس میں لاکھوں روپے موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔
جبکہ تیسری سطح پر وہ لوگ ہیں جنہیں باقاعدہ بھکاری بنایا جاتا ہے۔ بچوں کو اغوا کر کے اور بہت سے لوگوں کو مختلف طریقوں سے معذور کر کے ان سے بھکاریوں کا کام لیا جاتا ہے۔ ایسے منظم گروہ ہر علاقے میں موجود ہیں جو بچوں سے، عورتوں سے اور معذوروں سے بھیک منگواتے ہیں اور ان سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض گروہ شخصی مجبوریوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی رفاہی کاموں مثلاً یتیم خانوں، دینی مدارس اور رفاہی اداروں کا سہارا لیتے ہیں جس سے ان شعبوں میں صحیح کام کرنے والے اداروں کی بھی بدنامی ہوتی ہے لیکن یہ سب کچھ ہوتا ہے۔
ذیل میں اسکے متعلق کچھ دارالافتاء کے اھم فتاویٰ جات ھیں
*کیا اسلام بھیک مانگنے کی اجازت دیتا ہے؟*
سوال:
مجھے یہ پوچھنا ہے کہ بازاروں میں کچھ لوگ بھیک مانگتے ہیں، کیا اسلام بھیک مانگنے کی اجازت دیتا ہے؟
اور کچھ لوگ مسجد میں بھی چندہ مانگتے ہیں ، کیا یہ جائز ہے؟ شکریہ!
جواب نمبر: 322
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 36/د=36/د)
اسلام میں ایسے شخص کو جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کا انتظام موجود ہے، سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت سہل بن الحنظلیة سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کا انتظام موجود ہے، پھر بھی وہ سوال کرتا ہے تو وہ جہنم کی آگ اکٹھا کررہا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے سوال کررہا ہے تو وہ جہنم کا انگارہ جمع کررہا ہے، اب اس کی مرضی چاہے زیادہ جمع کرے یا کم۔ (مشکوٰة)
دوسری طرف اسلام نے صاحب حیثیت لوگوں کے ذمہ رکھا ہے کہ ضرورت مند لوگوں کے حالات کا تفقّد کریں اور ان کی ضروریات کو پوری کرنے کی فکر کریں۔
لہٰذا ، راستوں اور بازاروں میں جو لوگ پیشہ ور طور پر مانگتے ہیں، مانگنا انھوں نے پیشہ بنالیا ہے، اگر ان کو نہ دیا جائے تو کوئی گناہ نہ ہوگا۔ او راگر قرائن سے اندازہ ہو کہ ضرورت مند مانگ رہا ہے تو حسب حیثیت اس کی مدد کردے۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم ! تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے: اَمَّا السَّآئِلَ فَلاَ تَنْہَرْ سوال کرنے والے کو جھڑکو مت، اور اگر گنجائش نہ ہو تو نرمی سے عذر کردے۔
مسجد میں اپنے لیے سوال کرنا ناجائز ہے۔ البتہ کسی کار خیر میں چندہ کے لیے بطورِ ترغیب اعلان کردینا یا سخت ضرورت مند کے لیے دوسرا شخص لوگوں کو اطلاع کردے، اس کی اجازت ہے، لیکن مسجد میں چندہ کرنا جس میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنی پڑے اور نماز و تلاوت کرنے والوں کی عبادت میں خلل پیدا ہو یا نمازیوں کے سامنے گذرنا پایا جائے، درست نہیں ہے۔ ایسا چندہ مسجد کے دروازہ پر کیا جائے تو گنجائش ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
__________________________________________
*بھیک دینے کا شرعی حکم*
سوال :
بھیک مانگنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ایسے لوگوں کو منع کیا جا سکتا ہے؟ اکثر ٹریفک سگنل وغیرہ پر بالخصوص مسلم نوجوان مستقل بھیک مانگتے ہیں بطور روزگار اور بے حد اصرار اور اللہ رسول کا واسطہ دیتے ہیں. ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیئے جبکہ دل میں بد گمانی بھی ہوتی ہے کہ یہ شخص اچھا بھلا ہے اور بھیک مانگ رہا ہے اور دوسری طرف ان کے واسطے وسیلوں کے احترام کا ڈر بھی لگتا ہے ۔
برقعہ پوش خواتین بھی چھوٹے چھوٹے بچے لے کر مساجد کے باہر اور سگنل پر *مستقل* بھیک مانگتی ہیں ۔
(المستفتی : محمد مصدق، مالیگاؤں)
----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق :
بلا ضرورت شدیدہ بھیک مانگنا جائز نہیں ہے، اسی طرح تندرست پیشہ ور بھکاریوں کو جن کے متعلق علم ہو انھیں صدقہ خیرات نہیں دینا چاہیے۔ اس لئے کہ ان کو دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے اس قبیح پیشے کو استحکام بخشتے ہیں، کیونکہ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان کے تحت ایسا کرکے ہم انکے گناہ پر تعاون کا باعث بنتے ہیں۔
لا یحل أن یسأل شیئًا من لہ قوت یومہ بالفعل أو بالقوۃ کالصحیح المکتسب، ویأثم معطیہ إن علم بحالہ ، لإعانتہ علی المحرم ۔ (شامی : ۳/۴۲ ، باب الجمعۃ ، مطلب في الصدقۃ علی سُوّال المسجد)
بعض حضرات ہر سائل کو صدقہ خیرات دینے کے لیے اس حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہیں :
حضرت حسین بن علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سائل کے بارے میں فرمایا کہ وہ بہرصورت دئیے جانے کا مستحق ہے اگرچہ گھوڑے پر آئے ( احمد، ابوداؤد) اور مصابیح میں کہا گیا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے)
معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد گرامی کا اصل مقصد یہ تعلیم دینا ہے کہ سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرنا چاہئے اگرچہ وہ گھوڑے پر چڑھ کر بھی مانگنے آئے تو اس کا سوال پورا کیا جائے۔
قاضی فرماتے ہیں کہ سائل کو خالی ہاتھ نہ پھیرو اگرچہ ایسی حالت میں تمہارے پاس مانگنے آئے جو اس کے مستغنی ہونے پر دلالت کرے کیونکہ تمہیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اسے سوال کرنے کی حاجت نہ ہوتی تو وہ اپنا دست سوال دراز کرکے تمہارے آگے اپنے آپ کو ذلیل وخوار کیوں کرتا؟ (مشکوۃ مترجم)
پس اس حدیث کی تشریح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیشہ ور تندرست بھکاری اس حکم سے نکل گئے، کیونکہ ان کا مستقل مانگنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ لوگ بغیر ضرورتِ شدیدہ کے مانگتے ہیں۔
رہی بات ان کے واسطے وسیلوں کی تو اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، لہٰذا ان کے واسطوں وسیلوں کے باوجود انھیں اچھے انداز میں منع کردینے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔
وعن الحسين بن علي رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " للسائل حق وإن جاء على فرس " (رواه أحمد وأبو داود وفي المصابيح : مرسل)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامرعثمانی ملی
20 رمضان المبارک 1439
__________________________________________
*بھیک مانگنا شریعت کی نظر میں*
فتویٰ نمبر:1027
سوال:کس شخص کے لیے بھیک مانگنا اور دست سوال دراز کرنا جائز ہے؟
ام فریحہ
لاہور
الجواب بعون الملک الوھاب
جس شخص کے پاس ایک دن کی اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے صبح شام کی روزی ہو اس کے لیے بھیک مانگنا جائز نہیں۔اور جب اتنا بھی نہ ہو تب رخصت ہے۔ اسلام نے صاحب حیثیت لوگوں کے ذمہ رکھا ہے کہ ضرورت مند لوگوں کے حالات کا تفقّد کریں اور ان کی ضروریات کو پوری کرنے کی فکر کریں۔تاکہ ضرورت مند کے لیے بھیک مانگنے کی نوبت نہ آئے۔
“عن قبیصۃ بن المخارق رضی اللہ عنہ قال: تحملت حمالۃ فأتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أسألہ فیہا، فقال: أقم حتی تأتینا الصدقۃ فنأمر لک بہا، ثم قال: یا قبیصۃ! إن المسألۃ لا تحل إلا لأحد ثلاثۃ: رجل تحمل حمالۃ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیبہا ثم یمسک، و رجل أصابتہ جائحۃ اجتاحت مالہ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواما من عیش، أو قال: سدادا من عیش، و رجل أصابتہ فاقۃ حتی یقول ثلاثۃ من ذوی الحجی من قومہ لقد أصابت فلانا فاقۃ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواماً من عیش، أو قال: سدادا من عیش۔ فما سواہن من المسألۃ یا قبیصۃ! سحت، یأکلہا صاحبہا سحتاً۔”
(مسلم:1004،ابو داؤود:1640)
” من سأل وله ما يغنيه جاءت مسألته يوم القيامة خدوشاً أو خموشاً أو كدوحاً في وجهه
قيل : يا رسول الله وما يغنيه ؟قال : خمسون درهما، أو قيمتها من الذهب”
(أخرجه أبو داود (1626) والنسائي (1 / 363) والترمذي )
“عن أبي هريرة – رضي الله عنه – أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قال: ((من سأل الناس أموالهم تكثرًا، فإنما يسأل جمرًا؛ فليستقل أو ليستكثر))”( رواه مسلم)
فقط-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
بنت ممتاز غفرھا اللہ
صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر،کراچی
__________________________________________
*مسجد میں سوال کرنے (بھیک مانگنے) اور ایسے سائل کی مدد کرنے کا حکم*
سوال
آج کل رمضان میں تقریباً ہر مسجد میں کوئی نا کوئی سائل بعد نماز فرض کے کھڑا ہوکر سوال کرتا ہے، جب کہ مسجد میں سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے، ایسے موقع پر شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
وا ضح رہے کہ جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کےلیے کپڑا ہو، اس کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے، اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی آدمی پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت پیش آگئی ہو جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کرے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن مانگنے کو عادت اور پیشہ بنالینا بالکل بھی جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص بلاضرورت مانگتا ہے، قیامت کے دن اس کا یہ مانگنا اس کے چہرے پر زخم بن کر ظاہر ہوگا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو اپنا مال بڑھانے کے لیے سوال کرتاہے تو یہ جہنم کے انگارے جمع کررہاہے، اب چاہے تو کم جمع کرے یا زیادہ۔اس کے علاوہ بھی وعیدیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ مسجد میں بھیک مانگنے کی صورت میں مسجد کے بہت سے آداب کی خلاف ورزی بھی لازم آتی ہے، مثلاً: مسجد میں شور و شغب ہونا، نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہونا، نمازیوں کی گردنیں پھلانگنا وغیرہ۔اور حدیث میں نمازیوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت بھی وارد ہے؛ اس لیے مسجد میں بھیک مانگنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے اور لوگوں کو چاہیے کہ جس شخص کے بارے میں علم ہو کہ یہ پیشہ ور بھکاری ہے، اسے بھیک نہ دیں۔ تاہم اگر کسی نے چندہ دے دیا تو یہ گناہ اور ناجائز نہیں ہے، بلکہ ایسے شخص کو دینے سے بھی نفلی صدقے کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔
اور اگر کوئی شخص انتہائی مجبور ہو تو اس کے لیے کچھ شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے مسجد میں سوال کرلینے کی گنجائش ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) اس سے کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ ہو۔
(2) کسی کو تکلیف نہ دی جائے، مثلاً گردن پھلانگنا وغیرہ۔
(3) مسجد میں شور وشغب نہ کیا جائے۔
(4) چندہ زبردستی نہ لیا جائے اور چندہ نہ دینے پر کسی کو عار نہ دلائی جائے۔
تاہم مسجد کے آداب کا تقاضا یہی ہے کہ بوقتِ ضرورت بھی ذاتی چندہ مسجد سے باہر کیا جائے، اور ضرورت پر مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 164):
"ويكره التخطي للسؤال بكل حال.
(قوله: ويكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لايمر بين يدي المصلي ولايتخطى الرقاب ولايسأل إلحافاً بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـومثله في البزازية. وفيها: ولايجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. قال الإمام أبو نصر العياضي: أرجو أن يغفر الله - تعالى - لمن يخرجهم من المسجد. وعن الإمام خلف بن أيوب: لو كنت قاضياً لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم. اهـ. وسيأتي في باب المصرف أنه لايحل أن يسأل شيئاً من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم". فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144109201552
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
__________________________________________
*اللہ کے نام پر بھیک مانگنا*
(9573-No)
سوال:
سوال یہ ہے کہ بھیک مانگنے والے جو اللہ کے نام پر مانگتے ہیں، "اللہ کے نام پر دے دو" کیا اس طرح اللہ کے نام پر انسانوں سے مانگنا صحیح ہے؟
جواب: اللہ کے نام پر دنیا کا سوال کرنا مناسب نہیں ہے، حضرت جابر ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے۔ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر:1671)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داود: (باب كراهية المسألة بوجه الله عز و جل، رقم الحديث: 1671، ط: دار الرسالة العالمية)
عن جابر قال: قال رسول الله: صلى الله عليه وسلم "لا يسأل بوجه الله إلا الجنة.
الدر المختار مع رد المحتار: (397/6، ط: دارالفکر)
وفي المختارات قال ابن المبارك: سأل لوجه الله أو لحق الله يعجبني أن لا يعطيه شيئا لأنه عظم ما حقر الله
أقول: وليتأمل المنع مع ما ذكره شيخ مشايخنا الجراحي مما عند الطبراني بسند رجاله رجال الصحيح عن أبي موسى - رضي الله عنه - أنه سمع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول «ملعون من سأل بوجه الله وملعون من سئل بوجه الله ثم منع سائله ما لم يسأل هجرا» يعني قبيحا ولأبي داود والنسائي وصححه ابن حبان وقال الحاكم على شرط الشيخين عن ابن عمر - رضي الله عنهما - رفعه «من يسأل بوجه الله فأعطوه» وللطبراني «ملعون من سأل بوجه الله وملع*بھیک مانگنے والوں سے متعلق اھم تفصیل*
جہاں تک بھکاریوں کا تعلق ہے وہ دنیا کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں۔ ہم نے بھکاری افغانستان میں بھی دیکھے ہیں جو دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور برطانیہ میں بھی انہیں بھیک مانگتے دیکھا ہے جسے ترقی یافتہ اور ویلفیئر اسٹیٹ کہا جاتا ہے اور جس ملک کو اپنے شہریوں کو زندگی کی ضروری سہولتیں ریاستی سطح پر مہیا کرنے کا امتیاز حاصل ہے۔ لندن کے انڈر گراؤنڈ ریلوے اسٹیشنوں پر آپ کو متعدد جگہ ایسے بھکاری نظر آئیں گے جو راستے میں کپڑا بچھائے بیٹھے ہیں، گٹار بجا رہے ہیں یا گا رہے ہیں اور گزرنے والے اس کے کپڑے یا کشکول نما برتن میں سکے پھینکتے چلے جاتے ہیں۔ انڈر گراؤنڈ ریل میں ہم نے ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے بھی دیکھے ہیں۔
بھیک مانگنا بسا اوقات مجبوری کے باعث ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات اس کا باعث کاہلی اور شوق ہوتا ہے کہ ایک انسان محنت مزدوری اور کام کاج سے جی چراتے ہوئے مشقت کی بجائے ہاتھ پھیلانے کی ذلت برداشت کر لیتا ہے اور اس میں عافیت محسوس کرتا ہے کہ اسے کوئی کام نہ کرنا پڑے اور مانگ تانگ کر زندگی کے اخراجات پورے ہوتے رہیں۔ ایسی بھیک مانگنے سے اسلام نے منع کیا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ہے جو محنت مزدوری کی طاقت اور مواقع مہیا ہونے کے باوجود کام کاج سے گریز کرتا ہے اور بھیک مانگنے کو مشغلہ کے طور پر اختیار کرتا ہے۔ البتہ معذوری اور مجبوری کی وجہ سے بوقت ضرورت بھیک مانگنے کی اجازت بھی دی گئی ہے اور روایات میں آتا ہے کہ جہاں آنحضرتؐ بلاوجہ بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے تھے اور بسا اوقات انہیں ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے وہاں کوئی ضرورتمند سوالی آپؐ کے دروازے سے خالی نہیں جایا کرتا تھا۔
فقہ حنفی کے معروف امام حضرت امام محمدؒ نے ’’کتاب الکسب‘‘ میں بھیک مانگنے کی شرعی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے اس کے مختلف درجات بیان فرمائے ہیں کہ بسا اوقات بھیک مانگنا فرض ہو جاتا ہے جب جان کو خطرہ ہو اور کسی اور ذریعے سے جان بچانے کے لیے خوراک ملنے کی بظاہر کوئی صورت نہ ہو تو ضرورتمند پر فرض ہے کہ وہ بھیک مانگ کر اتنی خوراک حاصل کر لے جس سے جان بچ جائے۔ اور ایک درجہ حرام ہونے کا ہے کہ ضرورت نہیں ہے اور متبادل ذرائع موجود ہیں مگر ایک شخص محض شوق پورا کرنے کے لیے یا لالچ کے لیے بھی مانگتا ہے، ایسی بھیک مانگنا حرام ہے اور بھیک مانگنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ ان دونوں درجوں کے درمیان مباح اور مکروہ کے درجات بھی ہیں۔
اسلام نے معاشرے سے بھیک کے خاتمہ کے لیے بیت المال کو شہریوں کی ضروریات کا کفیل قرار دیا ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’السلطان ولی من لا ولی لہ‘‘ جس کا کوئی ولی نہیں سلطان (امیر المؤمنین) اس کا ولی ہے۔ اسی اصول پر امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے ویلفیئر اسٹیٹ کے اس آئیڈیل سسٹم کی بنیاد رکھی تھی جس میں معاشرہ کے نادار، معذور، بے روزگار، بے سہارا اور ضرورتمند افراد کی فہرستیں مرتب کر کے بیت المال کی طرف سے ان کے وظائف مقرر فرمائے تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جو شخص خود اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکتا اور کوئی شخص بھی اس کے اخراجات کی کفالت کا شرعاً یا عرفاً ذمہ دار نہیں ہے تو اس کے اخراجات کی کفالت کی ذمہ داری ریاست پر ہے اور اسے بیت المال سے اتنا وظیفہ دیا جائے گا جس سے وہ اپنے روز مرہ کے ضروری اخراجات پورے کر سکے۔
حضرت عمرؓ کے بعض سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک بوڑھے یہودی کو بازار میں لوگوں سے بھیک مانگتے دیکھا تو یہ کہہ کر تعجب کا اظہار کیا کہ جب ہم بیت المال سے ہر ضرورتمند کو اس کی ضرورت کے مطابق وظیفہ دیتے ہیں تو یہ بوڑھا لوگوں سے کیوں مانگ رہا ہے؟ گویا حضرت عمرؓ کے نزدیک ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور یہ تھا کہ ریاست اپنے شہریوں کی ضروریات کی اس درجہ میں کفالت کی ذمہ داری اٹھائے کہ کسی شخص کو دوسرے شخص کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
ہمارے معاشرے میں بھیک مانگنے والے تین سطح کے لوگ ہیں:
بہت سے افراد ضرورت اور مجبوری کے تحت بھیک مانگتے ہیں اور ان کی پوزیشن فی الواقع ایسی ہوتی ہے کہ جسمانی معذوری یا روزگار کے مواقع میسر نہ آنے کی وجہ سے ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ وہ بھیک مانگ کر اور ہاتھ پھیلا کر زندگی کا رشتہ قائم رکھیں۔
دوسری سطح کے لوگ وہ ہیں جو عادت، شوق، یا کام چوری کی وجہ سے بھیک مانگنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں میں مبینہ طور پر بہت سے افراد اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کی تجوریوں اور بیک بیلنس میں لاکھوں روپے موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔
جبکہ تیسری سطح پر وہ لوگ ہیں جنہیں باقاعدہ بھکاری بنایا جاتا ہے۔ بچوں کو اغوا کر کے اور بہت سے لوگوں کو مختلف طریقوں سے معذور کر کے ان سے بھکاریوں کا کام لیا جاتا ہے۔ ایسے منظم گروہ ہر علاقے میں موجود ہیں جو بچوں سے، عورتوں سے اور معذوروں سے بھیک منگواتے ہیں اور ان سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض گروہ شخصی مجبوریوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی رفاہی کاموں مثلاً یتیم خانوں، دینی مدارس اور رفاہی اداروں کا سہارا لیتے ہیں جس سے ان شعبوں میں صحیح کام کرنے والے اداروں کی بھی بدنامی ہوتی ہے لیکن یہ سب کچھ ہوتا ہے۔
ذیل میں اسکے متعلق کچھ دارالافتاء کے اھم فتاویٰ جات ھیں
*کیا اسلام بھیک مانگنے کی اجازت دیتا ہے؟*
سوال:
مجھے یہ پوچھنا ہے کہ بازاروں میں کچھ لوگ بھیک مانگتے ہیں، کیا اسلام بھیک مانگنے کی اجازت دیتا ہے؟
اور کچھ لوگ مسجد میں بھی چندہ مانگتے ہیں ، کیا یہ جائز ہے؟ شکریہ!
جواب نمبر: 322
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 36/د=36/د)
اسلام میں ایسے شخص کو جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کا انتظام موجود ہے، سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت سہل بن الحنظلیة سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کا انتظام موجود ہے، پھر بھی وہ سوال کرتا ہے تو وہ جہنم کی آگ اکٹھا کررہا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے سوال کررہا ہے تو وہ جہنم کا انگارہ جمع کررہا ہے، اب اس کی مرضی چاہے زیادہ جمع کرے یا کم۔ (مشکوٰة)
دوسری طرف اسلام نے صاحب حیثیت لوگوں کے ذمہ رکھا ہے کہ ضرورت مند لوگوں کے حالات کا تفقّد کریں اور ان کی ضروریات کو پوری کرنے کی فکر کریں۔
لہٰذا ، راستوں اور بازاروں میں جو لوگ پیشہ ور طور پر مانگتے ہیں، مانگنا انھوں نے پیشہ بنالیا ہے، اگر ان کو نہ دیا جائے تو کوئی گناہ نہ ہوگا۔ او راگر قرائن سے اندازہ ہو کہ ضرورت مند مانگ رہا ہے تو حسب حیثیت اس کی مدد کردے۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم ! تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے: اَمَّا السَّآئِلَ فَلاَ تَنْہَرْ سوال کرنے والے کو جھڑکو مت، اور اگر گنجائش نہ ہو تو نرمی سے عذر کردے۔
مسجد میں اپنے لیے سوال کرنا ناجائز ہے۔ البتہ کسی کار خیر میں چندہ کے لیے بطورِ ترغیب اعلان کردینا یا سخت ضرورت مند کے لیے دوسرا شخص لوگوں کو اطلاع کردے، اس کی اجازت ہے، لیکن مسجد میں چندہ کرنا جس میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنی پڑے اور نماز و تلاوت کرنے والوں کی عبادت میں خلل پیدا ہو یا نمازیوں کے سامنے گذرنا پایا جائے، درست نہیں ہے۔ ایسا چندہ مسجد کے دروازہ پر کیا جائے تو گنجائش ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
__________________________________________
*بھیک دینے کا شرعی حکم*
سوال :
بھیک مانگنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ایسے لوگوں کو منع کیا جا سکتا ہے؟ اکثر ٹریفک سگنل وغیرہ پر بالخصوص مسلم نوجوان مستقل بھیک مانگتے ہیں بطور روزگار اور بے حد اصرار اور اللہ رسول کا واسطہ دیتے ہیں. ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیئے جبکہ دل میں بد گمانی بھی ہوتی ہے کہ یہ شخص اچھا بھلا ہے اور بھیک مانگ رہا ہے اور دوسری طرف ان کے واسطے وسیلوں کے احترام کا ڈر بھی لگتا ہے ۔
برقعہ پوش خواتین بھی چھوٹے چھوٹے بچے لے کر مساجد کے باہر اور سگنل پر *مستقل* بھیک مانگتی ہیں ۔
(المستفتی : محمد مصدق، مالیگاؤں)
----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق :
بلا ضرورت شدیدہ بھیک مانگنا جائز نہیں ہے، اسی طرح تندرست پیشہ ور بھکاریوں کو جن کے متعلق علم ہو انھیں صدقہ خیرات نہیں دینا چاہیے۔ اس لئے کہ ان کو دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے اس قبیح پیشے کو استحکام بخشتے ہیں، کیونکہ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان کے تحت ایسا کرکے ہم انکے گناہ پر تعاون کا باعث بنتے ہیں۔
لا یحل أن یسأل شیئًا من لہ قوت یومہ بالفعل أو بالقوۃ کالصحیح المکتسب، ویأثم معطیہ إن علم بحالہ ، لإعانتہ علی المحرم ۔ (شامی : ۳/۴۲ ، باب الجمعۃ ، مطلب في الصدقۃ علی سُوّال المسجد)
بعض حضرات ہر سائل کو صدقہ خیرات دینے کے لیے اس حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہیں :
حضرت حسین بن علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سائل کے بارے میں فرمایا کہ وہ بہرصورت دئیے جانے کا مستحق ہے اگرچہ گھوڑے پر آئے ( احمد، ابوداؤد) اور مصابیح میں کہا گیا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے)
معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد گرامی کا اصل مقصد یہ تعلیم دینا ہے کہ سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرنا چاہئے اگرچہ وہ گھوڑے پر چڑھ کر بھی مانگنے آئے تو اس کا سوال پورا کیا جائے۔
قاضی فرماتے ہیں کہ سائل کو خالی ہاتھ نہ پھیرو اگرچہ ایسی حالت میں تمہارے پاس مانگنے آئے جو اس کے مستغنی ہونے پر دلالت کرے کیونکہ تمہیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اسے سوال کرنے کی حاجت نہ ہوتی تو وہ اپنا دست سوال دراز کرکے تمہارے آگے اپنے آپ کو ذلیل وخوار کیوں کرتا؟ (مشکوۃ مترجم)
پس اس حدیث کی تشریح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیشہ ور تندرست بھکاری اس حکم سے نکل گئے، کیونکہ ان کا مستقل مانگنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ لوگ بغیر ضرورتِ شدیدہ کے مانگتے ہیں۔
رہی بات ان کے واسطے وسیلوں کی تو اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، لہٰذا ان کے واسطوں وسیلوں کے باوجود انھیں اچھے انداز میں منع کردینے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔
وعن الحسين بن علي رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " للسائل حق وإن جاء على فرس " (رواه أحمد وأبو داود وفي المصابيح : مرسل)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامرعثمانی ملی
20 رمضان المبارک 1439
__________________________________________
*بھیک مانگنا شریعت کی نظر میں*
فتویٰ نمبر:1027
سوال:کس شخص کے لیے بھیک مانگنا اور دست سوال دراز کرنا جائز ہے؟
ام فریحہ
لاہور
الجواب بعون الملک الوھاب
جس شخص کے پاس ایک دن کی اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے صبح شام کی روزی ہو اس کے لیے بھیک مانگنا جائز نہیں۔اور جب اتنا بھی نہ ہو تب رخصت ہے۔ اسلام نے صاحب حیثیت لوگوں کے ذمہ رکھا ہے کہ ضرورت مند لوگوں کے حالات کا تفقّد کریں اور ان کی ضروریات کو پوری کرنے کی فکر کریں۔تاکہ ضرورت مند کے لیے بھیک مانگنے کی نوبت نہ آئے۔
“عن قبیصۃ بن المخارق رضی اللہ عنہ قال: تحملت حمالۃ فأتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أسألہ فیہا، فقال: أقم حتی تأتینا الصدقۃ فنأمر لک بہا، ثم قال: یا قبیصۃ! إن المسألۃ لا تحل إلا لأحد ثلاثۃ: رجل تحمل حمالۃ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیبہا ثم یمسک، و رجل أصابتہ جائحۃ اجتاحت مالہ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواما من عیش، أو قال: سدادا من عیش، و رجل أصابتہ فاقۃ حتی یقول ثلاثۃ من ذوی الحجی من قومہ لقد أصابت فلانا فاقۃ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواماً من عیش، أو قال: سدادا من عیش۔ فما سواہن من المسألۃ یا قبیصۃ! سحت، یأکلہا صاحبہا سحتاً۔”
(مسلم:1004،ابو داؤود:1640)
” من سأل وله ما يغنيه جاءت مسألته يوم القيامة خدوشاً أو خموشاً أو كدوحاً في وجهه
قيل : يا رسول الله وما يغنيه ؟قال : خمسون درهما، أو قيمتها من الذهب”
(أخرجه أبو داود (1626) والنسائي (1 / 363) والترمذي )
“عن أبي هريرة – رضي الله عنه – أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قال: ((من سأل الناس أموالهم تكثرًا، فإنما يسأل جمرًا؛ فليستقل أو ليستكثر))”( رواه مسلم)
فقط-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
بنت ممتاز غفرھا اللہ
صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر،کراچی
__________________________________________
*مسجد میں سوال کرنے (بھیک مانگنے) اور ایسے سائل کی مدد کرنے کا حکم*
سوال
آج کل رمضان میں تقریباً ہر مسجد میں کوئی نا کوئی سائل بعد نماز فرض کے کھڑا ہوکر سوال کرتا ہے، جب کہ مسجد میں سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے، ایسے موقع پر شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
وا ضح رہے کہ جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کےلیے کپڑا ہو، اس کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے، اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی آدمی پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت پیش آگئی ہو جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کرے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن مانگنے کو عادت اور پیشہ بنالینا بالکل بھی جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص بلاضرورت مانگتا ہے، قیامت کے دن اس کا یہ مانگنا اس کے چہرے پر زخم بن کر ظاہر ہوگا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو اپنا مال بڑھانے کے لیے سوال کرتاہے تو یہ جہنم کے انگارے جمع کررہاہے، اب چاہے تو کم جمع کرے یا زیادہ۔اس کے علاوہ بھی وعیدیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ مسجد میں بھیک مانگنے کی صورت میں مسجد کے بہت سے آداب کی خلاف ورزی بھی لازم آتی ہے، مثلاً: مسجد میں شور و شغب ہونا، نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہونا، نمازیوں کی گردنیں پھلانگنا وغیرہ۔اور حدیث میں نمازیوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت بھی وارد ہے؛ اس لیے مسجد میں بھیک مانگنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے اور لوگوں کو چاہیے کہ جس شخص کے بارے میں علم ہو کہ یہ پیشہ ور بھکاری ہے، اسے بھیک نہ دیں۔ تاہم اگر کسی نے چندہ دے دیا تو یہ گناہ اور ناجائز نہیں ہے، بلکہ ایسے شخص کو دینے سے بھی نفلی صدقے کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔
اور اگر کوئی شخص انتہائی مجبور ہو تو اس کے لیے کچھ شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے مسجد میں سوال کرلینے کی گنجائش ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) اس سے کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ ہو۔
(2) کسی کو تکلیف نہ دی جائے، مثلاً گردن پھلانگنا وغیرہ۔
(3) مسجد میں شور وشغب نہ کیا جائے۔
(4) چندہ زبردستی نہ لیا جائے اور چندہ نہ دینے پر کسی کو عار نہ دلائی جائے۔
تاہم مسجد کے آداب کا تقاضا یہی ہے کہ بوقتِ ضرورت بھی ذاتی چندہ مسجد سے باہر کیا جائے، اور ضرورت پر مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 164):
"ويكره التخطي للسؤال بكل حال.
(قوله: ويكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لايمر بين يدي المصلي ولايتخطى الرقاب ولايسأل إلحافاً بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـومثله في البزازية. وفيها: ولايجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. قال الإمام أبو نصر العياضي: أرجو أن يغفر الله - تعالى - لمن يخرجهم من المسجد. وعن الإمام خلف بن أيوب: لو كنت قاضياً لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم. اهـ. وسيأتي في باب المصرف أنه لايحل أن يسأل شيئاً من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم". فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144109201552
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
__________________________________________
*اللہ کے نام پر بھیک مانگنا*
(9573-No)
سوال:
سوال یہ ہے کہ بھیک مانگنے والے جو اللہ کے نام پر مانگتے ہیں، "اللہ کے نام پر دے دو" کیا اس طرح اللہ کے نام پر انسانوں سے مانگنا صحیح ہے؟
جواب: اللہ کے نام پر دنیا کا سوال کرنا مناسب نہیں ہے، حضرت جابر ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے۔ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر:1671)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داود: (باب كراهية المسألة بوجه الله عز و جل، رقم الحديث: 1671، ط: دار الرسالة العالمية)
عن جابر قال: قال رسول الله: صلى الله عليه وسلم "لا يسأل بوجه الله إلا الجنة.
الدر المختار مع رد المحتار: (397/6، ط: دارالفکر)
وفي المختارات قال ابن المبارك: سأل لوجه الله أو لحق الله يعجبني أن لا يعطيه شيئا لأنه عظم ما حقر الله
أقول: وليتأمل المنع مع ما ذكره شيخ مشايخنا الجراحي مما عند الطبراني بسند رجاله رجال الصحيح عن أبي موسى - رضي الله عنه - أنه سمع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول «ملعون من سأل بوجه الله وملعون من سئل بوجه الله ثم منع سائله ما لم يسأل هجرا» يعني قبيحا ولأبي داود والنسائي وصححه ابن حبان وقال الحاكم على شرط الشيخين عن ابن عمر - رضي الله عنهما - رفعه «من يسأل بوجه الله فأعطوه» وللطبراني «ملعون من سأل بوجه الله وملع*بھیک مانگنے والوں سے متعلق اھم تفصیل*
جہاں تک بھکاریوں کا تعلق ہے وہ دنیا کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں۔ ہم نے بھکاری افغانستان میں بھی دیکھے ہیں جو دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور برطانیہ میں بھی انہیں بھیک مانگتے دیکھا ہے جسے ترقی یافتہ اور ویلفیئر اسٹیٹ کہا جاتا ہے اور جس ملک کو اپنے شہریوں کو زندگی کی ضروری سہولتیں ریاستی سطح پر مہیا کرنے کا امتیاز حاصل ہے۔ لندن کے انڈر گراؤنڈ ریلوے اسٹیشنوں پر آپ کو متعدد جگہ ایسے بھکاری نظر آئیں گے جو راستے میں کپڑا بچھائے بیٹھے ہیں، گٹار بجا رہے ہیں یا گا رہے ہیں اور گزرنے والے اس کے کپڑے یا کشکول نما برتن میں سکے پھینکتے چلے جاتے ہیں۔ انڈر گراؤنڈ ریل میں ہم نے ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے بھی دیکھے ہیں۔
بھیک مانگنا بسا اوقات مجبوری کے باعث ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات اس کا باعث کاہلی اور شوق ہوتا ہے کہ ایک انسان محنت مزدوری اور کام کاج سے جی چراتے ہوئے مشقت کی بجائے ہاتھ پھیلانے کی ذلت برداشت کر لیتا ہے اور اس میں عافیت محسوس کرتا ہے کہ اسے کوئی کام نہ کرنا پڑے اور مانگ تانگ کر زندگی کے اخراجات پورے ہوتے رہیں۔ ایسی بھیک مانگنے سے اسلام نے منع کیا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ہے جو محنت مزدوری کی طاقت اور مواقع مہیا ہونے کے باوجود کام کاج سے گریز کرتا ہے اور بھیک مانگنے کو مشغلہ کے طور پر اختیار کرتا ہے۔ البتہ معذوری اور مجبوری کی وجہ سے بوقت ضرورت بھیک مانگنے کی اجازت بھی دی گئی ہے اور روایات میں آتا ہے کہ جہاں آنحضرتؐ بلاوجہ بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے تھے اور بسا اوقات انہیں ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے وہاں کوئی ضرورتمند سوالی آپؐ کے دروازے سے خالی نہیں جایا کرتا تھا۔
فقہ حنفی کے معروف امام حضرت امام محمدؒ نے ’’کتاب الکسب‘‘ میں بھیک مانگنے کی شرعی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے اس کے مختلف درجات بیان فرمائے ہیں کہ بسا اوقات بھیک مانگنا فرض ہو جاتا ہے جب جان کو خطرہ ہو اور کسی اور ذریعے سے جان بچانے کے لیے خوراک ملنے کی بظاہر کوئی صورت نہ ہو تو ضرورتمند پر فرض ہے کہ وہ بھیک مانگ کر اتنی خوراک حاصل کر لے جس سے جان بچ جائے۔ اور ایک درجہ حرام ہونے کا ہے کہ ضرورت نہیں ہے اور متبادل ذرائع موجود ہیں مگر ایک شخص محض شوق پورا کرنے کے لیے یا لالچ کے لیے بھی مانگتا ہے، ایسی بھیک مانگنا حرام ہے اور بھیک مانگنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ ان دونوں درجوں کے درمیان مباح اور مکروہ کے درجات بھی ہیں۔
اسلام نے معاشرے سے بھیک کے خاتمہ کے لیے بیت المال کو شہریوں کی ضروریات کا کفیل قرار دیا ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’السلطان ولی من لا ولی لہ‘‘ جس کا کوئی ولی نہیں سلطان (امیر المؤمنین) اس کا ولی ہے۔ اسی اصول پر امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے ویلفیئر اسٹیٹ کے اس آئیڈیل سسٹم کی بنیاد رکھی تھی جس میں معاشرہ کے نادار، معذور، بے روزگار، بے سہارا اور ضرورتمند افراد کی فہرستیں مرتب کر کے بیت المال کی طرف سے ان کے وظائف مقرر فرمائے تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جو شخص خود اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکتا اور کوئی شخص بھی اس کے اخراجات کی کفالت کا شرعاً یا عرفاً ذمہ دار نہیں ہے تو اس کے اخراجات کی کفالت کی ذمہ داری ریاست پر ہے اور اسے بیت المال سے اتنا وظیفہ دیا جائے گا جس سے وہ اپنے روز مرہ کے ضروری اخراجات پورے کر سکے۔
حضرت عمرؓ کے بعض سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک بوڑھے یہودی کو بازار میں لوگوں سے بھیک مانگتے دیکھا تو یہ کہہ کر تعجب کا اظہار کیا کہ جب ہم بیت المال سے ہر ضرورتمند کو اس کی ضرورت کے مطابق وظیفہ دیتے ہیں تو یہ بوڑھا لوگوں سے کیوں مانگ رہا ہے؟ گویا حضرت عمرؓ کے نزدیک ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور یہ تھا کہ ریاست اپنے شہریوں کی ضروریات کی اس درجہ میں کفالت کی ذمہ داری اٹھائے کہ کسی شخص کو دوسرے شخص کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
ہمارے معاشرے میں بھیک مانگنے والے تین سطح کے لوگ ہیں:
بہت سے افراد ضرورت اور مجبوری کے تحت بھیک مانگتے ہیں اور ان کی پوزیشن فی الواقع ایسی ہوتی ہے کہ جسمانی معذوری یا روزگار کے مواقع میسر نہ آنے کی وجہ سے ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ وہ بھیک مانگ کر اور ہاتھ پھیلا کر زندگی کا رشتہ قائم رکھیں۔
دوسری سطح کے لوگ وہ ہیں جو عادت، شوق، یا کام چوری کی وجہ سے بھیک مانگنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں میں مبینہ طور پر بہت سے افراد اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کی تجوریوں اور بیک بیلنس میں لاکھوں روپے موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔
جبکہ تیسری سطح پر وہ لوگ ہیں جنہیں باقاعدہ بھکاری بنایا جاتا ہے۔ بچوں کو اغوا کر کے اور بہت سے لوگوں کو مختلف طریقوں سے معذور کر کے ان سے بھکاریوں کا کام لیا جاتا ہے۔ ایسے منظم گروہ ہر علاقے میں موجود ہیں جو بچوں سے، عورتوں سے اور معذوروں سے بھیک منگواتے ہیں اور ان سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض گروہ شخصی مجبوریوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی رفاہی کاموں مثلاً یتیم خانوں، دینی مدارس اور رفاہی اداروں کا سہارا لیتے ہیں جس سے ان شعبوں میں صحیح کام کرنے والے اداروں کی بھی بدنامی ہوتی ہے لیکن یہ سب کچھ ہوتا ہے۔
ذیل میں اسکے متعلق کچھ دارالافتاء کے اھم فتاویٰ جات ھیں
*کیا اسلام بھیک مانگنے کی اجازت دیتا ہے؟*
سوال:
مجھے یہ پوچھنا ہے کہ بازاروں میں کچھ لوگ بھیک مانگتے ہیں، کیا اسلام بھیک مانگنے کی اجازت دیتا ہے؟
اور کچھ لوگ مسجد میں بھی چندہ مانگتے ہیں ، کیا یہ جائز ہے؟ شکریہ!
جواب نمبر: 322
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 36/د=36/د)
اسلام میں ایسے شخص کو جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کا انتظام موجود ہے، سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت سہل بن الحنظلیة سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کا انتظام موجود ہے، پھر بھی وہ سوال کرتا ہے تو وہ جہنم کی آگ اکٹھا کررہا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے سوال کررہا ہے تو وہ جہنم کا انگارہ جمع کررہا ہے، اب اس کی مرضی چاہے زیادہ جمع کرے یا کم۔ (مشکوٰة)
دوسری طرف اسلام نے صاحب حیثیت لوگوں کے ذمہ رکھا ہے کہ ضرورت مند لوگوں کے حالات کا تفقّد کریں اور ان کی ضروریات کو پوری کرنے کی فکر کریں۔
لہٰذا ، راستوں اور بازاروں میں جو لوگ پیشہ ور طور پر مانگتے ہیں، مانگنا انھوں نے پیشہ بنالیا ہے، اگر ان کو نہ دیا جائے تو کوئی گناہ نہ ہوگا۔ او راگر قرائن سے اندازہ ہو کہ ضرورت مند مانگ رہا ہے تو حسب حیثیت اس کی مدد کردے۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم ! تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے: اَمَّا السَّآئِلَ فَلاَ تَنْہَرْ سوال کرنے والے کو جھڑکو مت، اور اگر گنجائش نہ ہو تو نرمی سے عذر کردے۔
مسجد میں اپنے لیے سوال کرنا ناجائز ہے۔ البتہ کسی کار خیر میں چندہ کے لیے بطورِ ترغیب اعلان کردینا یا سخت ضرورت مند کے لیے دوسرا شخص لوگوں کو اطلاع کردے، اس کی اجازت ہے، لیکن مسجد میں چندہ کرنا جس میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنی پڑے اور نماز و تلاوت کرنے والوں کی عبادت میں خلل پیدا ہو یا نمازیوں کے سامنے گذرنا پایا جائے، درست نہیں ہے۔ ایسا چندہ مسجد کے دروازہ پر کیا جائے تو گنجائش ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
__________________________________________
*بھیک دینے کا شرعی حکم*
سوال :
بھیک مانگنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ایسے لوگوں کو منع کیا جا سکتا ہے؟ اکثر ٹریفک سگنل وغیرہ پر بالخصوص مسلم نوجوان مستقل بھیک مانگتے ہیں بطور روزگار اور بے حد اصرار اور اللہ رسول کا واسطہ دیتے ہیں. ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیئے جبکہ دل میں بد گمانی بھی ہوتی ہے کہ یہ شخص اچھا بھلا ہے اور بھیک مانگ رہا ہے اور دوسری طرف ان کے واسطے وسیلوں کے احترام کا ڈر بھی لگتا ہے ۔
برقعہ پوش خواتین بھی چھوٹے چھوٹے بچے لے کر مساجد کے باہر اور سگنل پر *مستقل* بھیک مانگتی ہیں ۔
(المستفتی : محمد مصدق، مالیگاؤں)
----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق :
بلا ضرورت شدیدہ بھیک مانگنا جائز نہیں ہے، اسی طرح تندرست پیشہ ور بھکاریوں کو جن کے متعلق علم ہو انھیں صدقہ خیرات نہیں دینا چاہیے۔ اس لئے کہ ان کو دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے اس قبیح پیشے کو استحکام بخشتے ہیں، کیونکہ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان کے تحت ایسا کرکے ہم انکے گناہ پر تعاون کا باعث بنتے ہیں۔
لا یحل أن یسأل شیئًا من لہ قوت یومہ بالفعل أو بالقوۃ کالصحیح المکتسب، ویأثم معطیہ إن علم بحالہ ، لإعانتہ علی المحرم ۔ (شامی : ۳/۴۲ ، باب الجمعۃ ، مطلب في الصدقۃ علی سُوّال المسجد)
بعض حضرات ہر سائل کو صدقہ خیرات دینے کے لیے اس حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہیں :
حضرت حسین بن علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سائل کے بارے میں فرمایا کہ وہ بہرصورت دئیے جانے کا مستحق ہے اگرچہ گھوڑے پر آئے ( احمد، ابوداؤد) اور مصابیح میں کہا گیا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے)
معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد گرامی کا اصل مقصد یہ تعلیم دینا ہے کہ سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرنا چاہئے اگرچہ وہ گھوڑے پر چڑھ کر بھی مانگنے آئے تو اس کا سوال پورا کیا جائے۔
قاضی فرماتے ہیں کہ سائل کو خالی ہاتھ نہ پھیرو اگرچہ ایسی حالت میں تمہارے پاس مانگنے آئے جو اس کے مستغنی ہونے پر دلالت کرے کیونکہ تمہیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اسے سوال کرنے کی حاجت نہ ہوتی تو وہ اپنا دست سوال دراز کرکے تمہارے آگے اپنے آپ کو ذلیل وخوار کیوں کرتا؟ (مشکوۃ مترجم)
پس اس حدیث کی تشریح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیشہ ور تندرست بھکاری اس حکم سے نکل گئے، کیونکہ ان کا مستقل مانگنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ لوگ بغیر ضرورتِ شدیدہ کے مانگتے ہیں۔
رہی بات ان کے واسطے وسیلوں کی تو اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، لہٰذا ان کے واسطوں وسیلوں کے باوجود انھیں اچھے انداز میں منع کردینے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔
وعن الحسين بن علي رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " للسائل حق وإن جاء على فرس " (رواه أحمد وأبو داود وفي المصابيح : مرسل)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامرعثمانی ملی
20 رمضان المبارک 1439
__________________________________________
*بھیک مانگنا شریعت کی نظر میں*
فتویٰ نمبر:1027
سوال:کس شخص کے لیے بھیک مانگنا اور دست سوال دراز کرنا جائز ہے؟
ام فریحہ
لاہور
الجواب بعون الملک الوھاب
جس شخص کے پاس ایک دن کی اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے صبح شام کی روزی ہو اس کے لیے بھیک مانگنا جائز نہیں۔اور جب اتنا بھی نہ ہو تب رخصت ہے۔ اسلام نے صاحب حیثیت لوگوں کے ذمہ رکھا ہے کہ ضرورت مند لوگوں کے حالات کا تفقّد کریں اور ان کی ضروریات کو پوری کرنے کی فکر کریں۔تاکہ ضرورت مند کے لیے بھیک مانگنے کی نوبت نہ آئے۔
“عن قبیصۃ بن المخارق رضی اللہ عنہ قال: تحملت حمالۃ فأتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أسألہ فیہا، فقال: أقم حتی تأتینا الصدقۃ فنأمر لک بہا، ثم قال: یا قبیصۃ! إن المسألۃ لا تحل إلا لأحد ثلاثۃ: رجل تحمل حمالۃ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیبہا ثم یمسک، و رجل أصابتہ جائحۃ اجتاحت مالہ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواما من عیش، أو قال: سدادا من عیش، و رجل أصابتہ فاقۃ حتی یقول ثلاثۃ من ذوی الحجی من قومہ لقد أصابت فلانا فاقۃ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواماً من عیش، أو قال: سدادا من عیش۔ فما سواہن من المسألۃ یا قبیصۃ! سحت، یأکلہا صاحبہا سحتاً۔”
(مسلم:1004،ابو داؤود:1640)
” من سأل وله ما يغنيه جاءت مسألته يوم القيامة خدوشاً أو خموشاً أو كدوحاً في وجهه
قيل : يا رسول الله وما يغنيه ؟قال : خمسون درهما، أو قيمتها من الذهب”
(أخرجه أبو داود (1626) والنسائي (1 / 363) والترمذي )
“عن أبي هريرة – رضي الله عنه – أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قال: ((من سأل الناس أموالهم تكثرًا، فإنما يسأل جمرًا؛ فليستقل أو ليستكثر))”( رواه مسلم)
فقط-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
بنت ممتاز غفرھا اللہ
صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر،کراچی
__________________________________________
*مسجد میں سوال کرنے (بھیک مانگنے) اور ایسے سائل کی مدد کرنے کا حکم*
سوال
آج کل رمضان میں تقریباً ہر مسجد میں کوئی نا کوئی سائل بعد نماز فرض کے کھڑا ہوکر سوال کرتا ہے، جب کہ مسجد میں سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے، ایسے موقع پر شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
وا ضح رہے کہ جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کےلیے کپڑا ہو، اس کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے، اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی آدمی پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت پیش آگئی ہو جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کرے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن مانگنے کو عادت اور پیشہ بنالینا بالکل بھی جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص بلاضرورت مانگتا ہے، قیامت کے دن اس کا یہ مانگنا اس کے چہرے پر زخم بن کر ظاہر ہوگا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو اپنا مال بڑھانے کے لیے سوال کرتاہے تو یہ جہنم کے انگارے جمع کررہاہے، اب چاہے تو کم جمع کرے یا زیادہ۔اس کے علاوہ بھی وعیدیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ مسجد میں بھیک مانگنے کی صورت میں مسجد کے بہت سے آداب کی خلاف ورزی بھی لازم آتی ہے، مثلاً: مسجد میں شور و شغب ہونا، نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہونا، نمازیوں کی گردنیں پھلانگنا وغیرہ۔اور حدیث میں نمازیوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت بھی وارد ہے؛ اس لیے مسجد میں بھیک مانگنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے اور لوگوں کو چاہیے کہ جس شخص کے بارے میں علم ہو کہ یہ پیشہ ور بھکاری ہے، اسے بھیک نہ دیں۔ تاہم اگر کسی نے چندہ دے دیا تو یہ گناہ اور ناجائز نہیں ہے، بلکہ ایسے شخص کو دینے سے بھی نفلی صدقے کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔
اور اگر کوئی شخص انتہائی مجبور ہو تو اس کے لیے کچھ شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے مسجد میں سوال کرلینے کی گنجائش ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) اس سے کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ ہو۔
(2) کسی کو تکلیف نہ دی جائے، مثلاً گردن پھلانگنا وغیرہ۔
(3) مسجد میں شور وشغب نہ کیا جائے۔
(4) چندہ زبردستی نہ لیا جائے اور چندہ نہ دینے پر کسی کو عار نہ دلائی جائے۔
تاہم مسجد کے آداب کا تقاضا یہی ہے کہ بوقتِ ضرورت بھی ذاتی چندہ مسجد سے باہر کیا جائے، اور ضرورت پر مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 164):
"ويكره التخطي للسؤال بكل حال.
(قوله: ويكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لايمر بين يدي المصلي ولايتخطى الرقاب ولايسأل إلحافاً بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـومثله في البزازية. وفيها: ولايجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. قال الإمام أبو نصر العياضي: أرجو أن يغفر الله - تعالى - لمن يخرجهم من المسجد. وعن الإمام خلف بن أيوب: لو كنت قاضياً لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم. اهـ. وسيأتي في باب المصرف أنه لايحل أن يسأل شيئاً من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم". فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144109201552
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
__________________________________________
*اللہ کے نام پر بھیک مانگنا*
(9573-No)
سوال:
سوال یہ ہے کہ بھیک مانگنے والے جو اللہ کے نام پر مانگتے ہیں، "اللہ کے نام پر دے دو" کیا اس طرح اللہ کے نام پر انسانوں سے مانگنا صحیح ہے؟
جواب: اللہ کے نام پر دنیا کا سوال کرنا مناسب نہیں ہے، حضرت جابر ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے۔ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر:1671)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داود: (باب كراهية المسألة بوجه الله عز و جل، رقم الحديث: 1671، ط: دار الرسالة العالمية)
عن جابر قال: قال رسول الله: صلى الله عليه وسلم "لا يسأل بوجه الله إلا الجنة.
الدر المختار مع رد المحتار: (397/6، ط: دارالفکر)
وفي المختارات قال ابن المبارك: سأل لوجه الله أو لحق الله يعجبني أن لا يعطيه شيئا لأنه عظم ما حقر الله
أقول: وليتأمل المنع مع ما ذكره شيخ مشايخنا الجراحي مما عند الطبراني بسند رجاله رجال الصحيح عن أبي موسى - رضي الله عنه - أنه سمع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول «ملعون من سأل بوجه الله وملعون من سئل بوجه الله ثم منع سائله ما لم يسأل هجرا» يعني قبيحا ولأبي داود والنسائي وصححه ابن حبان وقال الحاكم على شرط الشيخين عن ابن عمر - رضي الله عنهما - رفعه «من يسأل بوجه الله فأعطوه» وللطبراني «ملعون من سأل بوجه الله وملعون من يسأل بوجه الله فيمنع سائله» " اه إلا أن يحمل على السؤال من غير الدنيا أو على ما إذا علم عدم حاجته وأن سؤاله للتكثير تأمل
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچیون من يسأل بوجه الله فيمنع سائله» " اه إلا أن يحمل على السؤال من غير الدنيا أو على ما إذا علم عدم حاجته وأن سؤاله للتكثير تأمل
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچیون من يسأل بوجه الله فيمنع سائله» " اه إلا أن يحمل على السؤال من غير الدنيا أو على ما إذا علم عدم حاجته وأن سؤاله للتكثير تأملی

